ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پی ایف آئی کے دفاتر پر چھاپوں سے متعلق راہل گاندھی کا بیان منافقت کی انتہا۔ ایس ڈی پی آئی

پی ایف آئی کے دفاتر پر چھاپوں سے متعلق راہل گاندھی کا بیان منافقت کی انتہا۔ ایس ڈی پی آئی

Fri, 23 Sep 2022 20:21:05    S.O. News Service

بنگلورو 23 ستمبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کرناٹک ریاستی صدر عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں اے آئی سی سی کے سابق صدر راہل گاندھی کے پی ایف آئی کے دفاتر پر چھاپوں اور ملک کی دس ریاستوں میں عہدیداروں کے رہائش گاہوں پر چھاپوں کا دفاع کرنے کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا وہ وہی شخص تھا؟ جس نے مرکزی حکومت کی ایجنسیوں جیسے ED اور IT کو ان کے اپنے پارٹی کے لیڈروں پر چھاپے مارنے پر تنقید کی تھی۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اب تک لوگوں کا ماننا تھا کہ کانگریس پارٹی سیکولرازم پر یقین رکھتی ہے اور اقلیتوں، دلتوں اور مظلوم طبقات کی حفاظت کرتی ہے۔ جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی جیسے سابق وزیر اعظم نے کئی دہائیوں تک سماجی طور پر مظلوم طبقوں کی بہتری کے لیے کام کیا۔ انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی پروگرام تیار کیے تھے۔ لیکن راہل نے اس وراثت کو توڑ دیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں فرقہ وارانہ حکومت کی حمایت کی  ہے جس نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کرنے اور اس کیلئے گھریلو اور بیرون ممالک کا فنڈز حاصل کرنے کے بے بنیاد الزام لگا کر بند دفاتر کو توڑ کر چھاپے مارے اور بے گناہوں کو گرفتار کیا  ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ہر کوئی جانتا ہے کہ PFI اور SDPI ہمیشہ ملک بھر میں اقلیتوں اور مظلوم طبقات کی فلاح و بہبودی  کے لیے کام کرتے ہیں۔ ملک بھر میں این آئی اے کے خلاف رضاکارانہ طور پر احتجاج کرنے والے لوگوں کے مناظر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان لوگوں کا ان تنظیموں میں کس سطح پر اعتماد ہے۔ ایسی تنظیموں کی حمایت کرنے کے بجائے راہل نے NIA کی طرف سے PFI لیڈروں کو فرضی اور من گھڑت مقدمات میں گرفتار کرنے کے لیے اختیار کیے گئے سخت اور غیر جمہوری طریقے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا،  یہاں تک کہ ان کے اہل خانہ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کے قریبی عزیزوں کو کہاں لے جایا گیا ہے۔ جب کہ ان میں سے کچھ کو بنگلورو اور کچھ کو دہلی لے جایا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی پر ایسا چھاپہ چاہتے تھے جسے وہ سیاسی حریف سمجھتے ہیں۔ لوگ پہلے ہی ملک بھر میں کانگریس پارٹی کو مسترد کر چکے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب پارٹی  ملک کے سیاسی نقشے سے مٹ جائے گی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی نے کانگریس کی اُس وقت  حمایت کی تھی جب ای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ نیوز پیپر کیس کے سلسلے میں اے آئی سی سی صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو طلب کیا تھا، مزید کہا گیا ہے کہ  ہمیں  کانگریس پارٹی سے محبت نہیں بلکہ اپنے حریفوں پر حملہ کرنے کے لئے سرکاری ایجنسیوں کے  غلط استعمال کے خلاف ہم نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ مرکزی حکومت کی تقسیم کی سیاست اور اپوزیشن کو خاموش کرنے کے لیے عوامی مینڈیٹ کے مکمل غلط استعمال کے خلاف راہل گاندھی سے سخت بیان اور موقف کی توقع تھی۔ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ  عوام ہر چیز کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور 2023 کرناٹک اسمبلی  انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مناسب جواب دیں گے۔
 


Share: